آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے آج تہران میں تئيسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کی افتتاحیہ تقریب سے خطاب میں سامراجی تسلط پسند نظام کی سازشون کے مقابل امۃ اسلامی کے اتحاد کی ضرورت پرتاکید کرتےہوئے کہا کہ عالم اسلام جس کو دنیا مین سب سے آگے ہونا چاہیے تھا اپنی تمام تروسعت اور عظیم ترین وسائل وذرایع کےباوجود اندرونی اختلافات کا شکارہے اور قرآن و عقل کے برخلاف متحدہ رہنے کے بجائے پراکندگي کا شکارہے۔ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ عالم اسلام میں تقریبا ساٹھ خود مختار ممالک ہیں اور ان کی آبادی ایک ارب چھے سوملین تک ہے جبکہ اقتصادی لحاظ سے بھی اس کی پوزیشن بہت اچھی ہے اور انسان ساز مکتب اسلام کے کاحامل ہے لھذا اسے سب سے زیادہ اتحاد کی طرف بڑھنا جاہیے اور اپنا حقیقی مقام حاصل کرنا چاہیے ۔ آيت اللہ رفسنجانی نےقرآن کو مسلمانون کےاتحاد کا محورقراردیا اور کہا کہ عالم اسلام کے سارے ذرایع ابلاغ قرآن کی تلاوت نشرکرتےہیں اور سارے مسلمان قرآن کی تلاوت کرتےہیں بنابرین توقع کی جاتی ہےکہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ اتحاد ہونا چاہیے ۔ قابل ذکرہے تئيسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس آج سے تہران میں شروع ہوئی ہے یہ عالمی کانفرنس امت اسلامی تکثر مذاھب سے فرقہ واریت تک کے موضوع کےتحت منعقد ہورہی ہے۔ عالم اسلام اور دیگر علاقوں کےسیکڑوں علماء اور دانشور اور مفکرین اس کانفرنس میں شرکت کررہےہیں۔
17 مئی 2010 - 19:30
News ID: 180485
اسلامی جہموریہ ایران میں تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ علماء دین اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے درمیاں علمی تعاون یقینا اسلامی اتحاد کو زیادہ سے زیادہ استحکام پہنچاسکتاہے ۔